LOADING

Type to search

قومی قومی خبریں

اسلام آباد (اردو ٹائمز) جب مریم نواز نے پنجاب کی وزیراعلیٰ کا حلف اٹھایا، تو نہ صرف ایوان میں بلکہ پورے صوبے میں ایک خاموش مگر گہری ہلچل محسوس کی گئی۔

اسلام آباد (اردو ٹائمز) جب مریم نواز نے پنجاب کی وزیراعلیٰ کا حلف اٹھایا، تو نہ صرف ایوان میں بلکہ پورے صوبے میں ایک خاموش مگر گہری ہلچل محسوس کی گئی۔ کمرے کی چھت سے لگے کرسٹل کے فانوس روشنی کے موتیوں کی مانند جھلملا رہے تھے، اور وہ روشنی ہر چہرے پر ایک نئی امید کی کرن کے طور پر پڑ رہی تھی۔ سرکاری کمرے کی بھاری لکڑی کی میزیں اور کرسیاں بھی جیسے اس لمحے کی عظمت کا حصہ بن گئی تھیں، اور ہر سرکاری کاغذ اور ہر فائل جیسے ایک نیا وعدہ سن رہی تھی۔
ایوان میں بیٹھے لوگ خاموشی سے دیکھ رہے تھے، کچھ کی آنکھوں میں حیرت اور امید کی ملی جلی چمک تھی، کچھ کے دل تیز دھڑک رہے تھے، اور کچھ کے لبوں پر مسکان، مستقبل کے وعدے کی خوشبو لے کر آئی تھی۔ خواتین کے نمائندے، جو کئی برسوں سے اپنی چھپی ہوئی آواز سنانے کی کوشش کر رہی تھیں، اب آنکھوں میں ایک نیا اعتماد لیے کھڑی تھیں۔ ہر ایک کی سانس میں وہی امید گھل رہی تھی جو اس لمحے کے معنی میں چھپی تھی: احترام، وقار اور انصاف۔

ہال کے کونے میں، کھڑکیوں سے آنے والی نرم روشنی اور باہر کے سرسبز باغات کی خوشبو نے ماحول کو ایک جادوئی کیفیت دی تھی۔ ہوا میں بارش کے بعد کی خوشبو تھی، جو زمین کی نمی اور مٹی کی مہک کے ساتھ مل کر جیسے ہر شخص کے دل میں امید کا نیا بیج بو رہی تھی۔ ہر قدم، ہر سرسراہٹ، اور ہر ہلکی سی ہنسی اس لمحے کی انسانی اہمیت اور زندگی کی روشنی کو نمایاں کر رہی تھی۔

مریم نواز کے چہرے پر ایک پختہ عزم جھلک رہا تھا۔ اس عزم میں نہ صرف سیاسی عزم بلکہ ایک انسانی وعدہ بھی چھپا ہوا تھا، جسے ہر آنکھ محسوس کر رہی تھی۔ اس لمحے کا سکوت، اس کی شان، اور ہر شخص کی خاموشی، سب کچھ ایک ایسے تصور کی نمائندگی کر رہا تھا جو صرف انصاف، وقار، اور انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے تھا۔
ٹیکسلا کے شہر کی گلیاں شام کی ہلکی لالی میں نہا رہی تھیں۔ پتھریلی گلیوں کی سرسراہٹ، پرندوں کی چہچہاہٹ، اور دور کہیں بچوں کی ہنسی ایک عجیب سکون پیدا کر رہی تھی۔ ہر دیوار، ہر چھت، ہر درخت جیسے ماضی کی چھوٹی کہانی سنانے کے لیے تیار تھے۔ مٹی کی خوشبو، جو تازہ بارش کے بعد اور بھی گہری لگتی تھی، ہر سانس میں گھل رہی تھی۔ ایک عورت صحن میں بیٹھی، ہاتھ میں پرانے زیوروں کی چھوٹی سی پوٹلی تھی۔ یہ زیور صرف سونا یا چاندی نہیں تھے، یہ اس کے والدین کی محبت، ان کی دعاؤں، اور اپنی محنت کی یادگار تھے۔ آج اس نے یہ زیور فروخت کر کے اپنا خواب سچ کرنے کا پہلا قدم رکھا تھا: اسلام پورہ، حسن ابدال میں چار مرلہ زمین پر چھوٹا سا گھر، جہاں زندگی کے چھوٹے بڑے خواب حقیقت کا روپ دھاریں۔ چودہ برس گزر چکے تھے۔ زمین اس کے نام تھی، مگر قبضہ نہیں ملا۔ ہر دن، ہر لمحہ ایک دیوار کی طرح کھڑا تھا، جو حقیقت اور خواب کے درمیان بڑھ گئی تھی۔ آج، اس دیوار کے پیچھے ایک کھیوٹ کا بڑا مالک اپنے قبضے کے درپے تھا۔ وہ تھکی ہوئی تھی، مگر ہاری نہیں۔ اس کے قدم سیدھے تحصیل آفس حسن ابدال کی طرف جا رہے تھے، جہاں امید اور مایوسی ایک ساتھ سانس لیتے تھے۔

تحصیل آفس میں داخل ہوتے ہی فائلوں کی خوشبو اور پسینے کی ہلکی لالی اس کے چہرے سے ٹکرائی۔ کمرے میں موجود ریڈر ازور مقصود، ایک لمبی عمر کے تجربے کے حامل، نے سر اٹھایا اور نرم لہجے میں کہا: “بی بی، آپ کا کیا معاملہ ہے؟” اس عورت نے اپنے جذبات کو قابو میں رکھتے ہوئے بتایا: “چودہ سال پہلے خریدی زمین، قبضہ نہیں ملا۔ اب دوسروں نے دیوار کھڑی کر دی ہے۔” ازور نے فائل دیکھی اور مسکرا کر کہا: “بی بی، آپ کا کام چوھدری شفقت محمود صاحب ہی کر سکتے ہیں۔ وہ افسر نہیں، عدل کا پیکر ہیں۔ سچ بولو، ظلم خود ٹوٹ جائے گا۔” یہ جملہ ایک امید کی کرن تھا، ایک روشنی کی لہر، جو دل میں سکون پیدا کر رہی تھی۔

چوھدری شفقت محمود کا دفتر ایک الگ ہی دنیا تھا۔ جب وہ داخل ہوئے، کمرے کی ہوا بدل گئی۔ ایک سکون کی لہر ہر گوشے میں پھیل گئی، جیسے انصاف کی خوشبو نے فضاء کو بھر دیا ہو۔ ان کی شخصیت پرشکوہ اور متوازن تھی۔ انسانی آنکھوں میں غور و فکر کی گہرائی، چہرے پر اعتماد، صاف پیشانی، باوقار مونچھیں ایک حسین امتزاج تھیں۔ ان کے لبوں پر سکوت کی مسکان تھی، نظریں حق و باطل کی تہیں پرکھتی تھیں، اور ہر حرکت میں عدل، احترام، اور ذہانت جھلکتی تھی۔ فائلوں کی ہر انٹری، ہر رجسٹری، ہر چھپی ہوئی دو نمبری ان کی آنکھوں سے بچ نہیں سکتی تھی۔ وہ خواتین کیلے والد اور بھائی کا عظیم روپ ھیں یہ ان کی اعلی تربیت ، خون اور نسل کی نشانی ھے

چوھدری شفقت محمود کے خاندان نے انہیں شرافت، اخلاق، اور خواتین کے وقار کا سبق دیا تھا۔ ان کے دفتر میں کوئی خاتون کبھی خوفزدہ نہیں ہوئی۔ ہر فیصلہ نہ صرف قانون بلکہ انسانیت اور عزت و وقار کے مطابق ہوا۔ یہ اصول ان کے ہر عمل میں جھلکتا تھا۔ ان کی آواز کی لطافت، قدموں کی نرمی، اور نظریں جو ہر واقعے کے پیچھے چھپی حقیقت کو پڑھتی تھیں، ہر شخص کے دل میں احترام پیدا کرتی تھی۔

خاتون نے فائل میز پر رکھی اور ایک لمحے کے لیے خاموش رہی۔ پھر کہا: “یہ میری زمین ہے، اسلام پورہ۔ چودہ برس سے قبضہ نہیں ملا۔ اب کھیوٹ کا بڑا مالک قبضہ کر رہا ہے۔” چوھدری شفقت محمود نے فائل پلٹتے ہوئے کہا: “رجسٹری درست ہے۔ چار مرلے کی ملکیت خاتون کے نام ہے۔ جو بھی قبضہ کرے گا، قانون اس سے حساب لے گا۔ زمین واپس مالک کو ملے گی۔” یہ کلمات نہ صرف فیصلہ تھے بلکہ ایک وعدہ بھی تھے — انصاف کی روشنی، امید کی کرن، اور ظلم کے خلاف ایک مضبوط دیوار۔

قاضی افضال نے سر ہلاتے ہوئے کہا: “میں نے برسوں میں فیصلے دیکھے، مگر آج ایسا عدل پہلی بار محسوس ہوا۔” عارف محمود پٹواری نے کہا: “یہ افسر بھت عظیم شخصیت ھیں عدل کا مجسمہ ہے۔” اشتیاق خان رجسٹری محرر نے دل کی بات کہی: “ہم نے سوچ لیا تھا، آج فائل دائیں سے بائیں نہیں، انصاف کی سمت چلے گا۔ آج کاغذ نہیں، حق پلٹے گا۔” اکبر خان ریڈر نے مسکرا کر کہا: “یوں لگتا ہے جیسے قانون نے نئی زبان بولنا شروع کر دی ہو۔” ازور مقصود، تحصیلدار صاحب ایک اکیڈمی ھیں جس نے ان کے ساتھ کام کیا ھے وہ زندگئ میں کھبی ناکام نھی ھوسکتا میں نے اپنی 20 سال کی ملازمت میں ایسا عظیم ایڈمنسٹریٹر نھی دیکھا
، عاقل خان، وحید پٹواری — سب نے ایک آواز میں کہا: “ایسا افسر، ایسا عدل — زندگی میں پہلی بار دیکھا!”شاید خان ریڈر نے مسکرا کر کہا:
“کبھی کبھی لگتا ہے جیسے تحصیلدار صاحب کی سوچ قانون کی حدوں سے بھی آگے بڑھ گئی ہو، ہر معاملہ ان کی نظر میں صاف اور شفاف نظر آتا ہے۔”

وقاص الطاف رجسٹری محرر نے سر ہلاتے ہوئے کہا:
“ہر فائل، ہر کاغذ، ہر انٹری میں ان کی اعلیٰ انتظامی صلاحیت جھلکتی ہے۔ تحصیلدار صاحب واقعی عدل اور انتظام کا حسین امتزاج ہیں۔”ایسا لگتا ہے جیسے ہر پیچیدہ مسئلہ ان کے سامنے آسان ہو جائے۔ ان کی بصیرت اور فیصلہ سازی کا انداز ایک الگ معیار ہے۔”

ملک فیصل رجسٹری محرر نے کہا:
“ہم نے کئی برسوں میں افسران دیکھے، مگر تحصیلدار چوھدری شفقت محمود کی ذمہ داری، نظم اور عدل کے توازن کو پہلی بار محسوس کیا۔”

ملک اعجاز پٹواری نے مسکرا کر کہا:
“ہر فیصلہ، ہر حکم، ہر ہدایت میں انسانیت اور قانون کی یکساں جھلک دکھائی دیتی ہے۔ تحصیلدار صاحب واقعی انتظام کا شاہکار ہیں۔”

چند گھنٹوں میں فائل دوبارہ کھولی گئی، انٹری درست ہوئی، اور اگلے ہی دن کارروائی شروع ہو گئی۔ عورت اپنی زمین پر پہنچی۔ ہوا میں خوشبو بدل گئی، مٹی نرم ہو گئی۔ اس کے آنسو دکھ کے نہیں تھے — انصاف کے تھے۔ اس لمحے، زمین پر ہر قدم جیسے روشنی بکھیر رہا تھا۔

خاتون کی زمین کی خبر شہر بھر میں پھیل گئی۔ لوگ ایک دوسرے سے کہہ رہے تھے: “یہ واقعی عجیب ہے، ایک عام عورت کا حق واپس ملا۔” بازار میں بچے کھیل رہے تھے، خواتین اپنے گھر کی چھتوں پر کھڑی باتیں کر رہی تھیں، اور بزرگ خاموشی سے آسمان کو دیکھ کر مسکرا رہے تھے۔ ہر چہرہ امید اور اعتماد کی روشنی سے چمک رہا تھا۔ یہ لمحہ ایک چھوٹے پلاٹ کا نہیں، بلکہ انصاف، عدل، اور انسانی وقار کی فتح کا تھا۔

راؤ عاطف رضا، ڈی سی اٹک، نے کہا: “یہ وہ پنجاب ہے جہاں ایک عام عورت کا حق محفوظ ہے۔” اسسٹنٹ کمشنر حسن ابدال نے جواب دیا: “سر، ایسے افسران عوام کے دلوں میں امید پیدا کرتے ہیں۔ آج ہم نے صرف پلاٹ نہیں دیا، بلکہ اعتماد واپس کیا۔”

شام کے وقت، چوھدری شفقت محمود دفتر کے پیچھے کھڑے تھے۔ ہوا میں زمین کی مٹی کی خوشبو تھی، اور ہر کونا عدل اور انسانیت کی گواہی دے رہا تھا۔ ان کے لبوں پر خاموش مسکان، نظریں افق تک پھیلی ہوئی تھیں: “اب بھی اندھیرے ہیں، مگر روشنی کی سمت واضح ہے۔” حسن ابدال اور اٹک کے لوگ بول اٹھے: “یہ افسر نہیں، عدل کی چوٹی ہے۔”

یہ افسانہ صرف چار مرلے پلاٹ کی نہیں تھا، بلکہ عدل، انسانیت، خواتین کے وقار، اور عوام کے اعتماد کی فتح تھا۔ چوھدری شفقت محمود کی یہ کہانی ضلع کی تاریخ میں روشنی کا چراغ بن گئی، ایک ایسا چراغ جو ہر دل تک پہنچتا اور یاد دلاتا ہے: انصاف زندہ ہے، اور اس کی روشنی کبھی مدھم نہیں ہو سکتی۔
یہ قانون کی بالادستی ھے
یہ یہ انصاف کی فتح ھے
یہ مریم نواز کی جیت ھے

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
X