اسلام آباد (اردو ٹائمز) قومی ضمیر خطۂ عرب میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور پاکستان کا کردار
اسلام آباد (اردو ٹائمز) آج ہم ایک ایسے دوراہے پر کھڑے ہیں جہاں دنیا محض طاقت کے توازن سے نہیں بلکہ نیتوں کے تصادم سے گزر رہی ہے۔ مشرقِ وسطیٰ، جو ہمیشہ سے عالمِ اسلام کا دل رہا ہے، آج ایک بار پھر عالمی طاقتوں کی توجہ کا مرکز بنتا جا رہا ہے۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے درمیان براہِ راست جنگ تو نہیں، مگر اسٹریٹجک مقابلہ، علاقائی مفادات، اور عالمی بلاکس کی سیاست اس خطے کو ایک نازک موڑ پر لے آئی ہے۔
یہ وہ لمحہ ہے جہاں ایک غلط قدم نہ صرف خطے بلکہ پوری امتِ مسلمہ اور عالمی امن کے لیے شدید خطرہ بن سکتا ہے یہ تمام عوامل کسی بھی وقت کشیدگی کو کھلے تصادم میں بدل سکتے ہیں۔ اگر خدانخواستہ ایسا ہوا تو اس کے اثرات صرف ریاض یا ابوظہبی تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ اسلام آباد، انقرہ، تہران اور پوری دنیا اس کی لپیٹ میں آئے گی۔
گزشتہ چند برسوں میں یہ محسوس کر رہا ہوں کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات، جو ایک طویل عرصے تک خلیجی سیاست میں ایک دوسرے کے سب سے قریبی اتحادی سمجھے جاتے تھے، اب بعض معاملات میں ایک دوسرے سے فاصلے پر دکھائی دیتے ہیں۔ یہ تاثر بظاہر حیران کن لگتا ہے، کیونکہ دونوں ممالک نہ صرف خلیج تعاون کونسل کا حصہ ہیں بلکہ کئی علاقائی بحرانوں میں ایک ہی صف میں کھڑے نظر آئے ہیں۔ تاہم حقیقت یہ ہے کہ یہ صورتحال کسی اچانک دشمنی کا نتیجہ نہیں بلکہ وقت کے ساتھ ابھرنے والے اسٹریٹجک، معاشی اور سیاسی اختلافات کا مجموعہ ہے۔
سعودی عرب تاریخی طور پر عرب دنیا میں مرکزی حیثیت رکھتا آیا ہے۔ اس کی جغرافیائی وسعت، تیل کے ذخائر اور مذہبی مقام نے اسے فطری طور پر قیادت کا کردار دیا۔ اس کے برعکس متحدہ عرب امارات نے اپنی طاقت کا اظہار روایتی اثر و رسوخ کے بجائے جدید معیشت، عالمی تجارت، مالیاتی مراکز اور فعال خارجہ پالیسی کے ذریعے کیا۔ یہی فرق آہستہ آہستہ دونوں ممالک کے درمیان ایک خاموش مقابلے کی صورت اختیار کرتا گیا، جس میں ہر فریق خطے میں اپنا اثر بڑھانے کی کوشش کرتا رہا۔
معاشی میدان میں یہ فرق اور زیادہ نمایاں ہوا جب سعودی عرب نے اپنی معیشت کو تیل پر انحصار سے نکالنے کے لیے بڑے پیمانے پر اصلاحات کا آغاز کیا۔ غیر ملکی کمپنیوں کو ریاض منتقل کرنے کی پالیسی، بڑے انفراسٹرکچر منصوبے اور سیاحت کے فروغ نے خلیج کے معاشی توازن کو متاثر کیا۔ یہ تمام اقدامات ایسے شعبوں میں تھے جہاں پہلے ہی متحدہ عرب امارات، خصوصاً دبئی، ایک مضبوط مقام رکھتا تھا۔ نتیجتاً دونوں ممالک کے درمیان مسابقت بڑھی، جسے باہر سے دیکھنے والے بعض اوقات سیاسی کشیدگی سے تعبیر کرنے لگے
علاقائی تنازعات، خصوصاً یمن کی جنگ، نے بھی دونوں کے درمیان پالیسی فرق کو نمایاں کیا۔ اگرچہ دونوں ایک ہی اتحاد کا حصہ تھے، لیکن ان کے مقاصد اور ترجیحات مختلف رہیں۔ سعودی عرب کے لیے یہ معاملہ سرحدی سلامتی اور ریاستی استحکام سے جڑا رہا، جبکہ متحدہ عرب امارات نے ساحلی علاقوں، بندرگاہوں اور بحری راستوں پر توجہ مرکوز رکھی۔ وقت گزرنے کے ساتھ یہ فرق عملی تعاون میں کمی اور سیاسی فاصلے کا باعث بنا۔
آخر میں میں یہی کہنا چاہوں گا کہ جو قومیں ٹی وی اسکرین پر لڑتی ہیں، وہ میدان میں ہارتی ہیں
اور جو قومیں بند کمروں میں بات کرتی ہیں، وہ تاریخ بدلتی ہیں پاکستان اگر پسِ پردہ سفارت کاری کو مؤثر بناتا ہے
تو نہ صرف سعودی عرب اور UAE کے درمیان کشیدگی کم ہو سکتی ہے بلکہ عالمِ اسلام ایک بڑے بحران سے بچ سکتا ہے۔اگر آج عالمِ اسلام کو کسی ایسے ملک کی ضرورت ہے جوطاقت بھی رکھتا ہوعقل بھی اور نیت بھی تو وہ ملک پاکستان ہے
مشرقِ وسطیٰ میں پیدا ہونے والی حالیہ کشیدگی کے تناظر میں پاکستان ایک ایسا ملک ہے جو محاذ آرائی کے بجائے مفاہمت کا کردار ادا کر سکتا ہے۔ پاکستان کی تاریخ، اس کی عسکری صلاحیت اور اس کے عرب دنیا کے ساتھ دیرینہ تعلقات اسے اس قابل بناتے ہیں کہ وہ خاموشی اور تدبر کے ساتھ امن کی کوششوں میں مثبت حصہ ڈالے۔
پاکستانی اسٹیبلشمنٹ اس معاملے میں ایک متوازن اور ذمہ دار سوچ کی نمائندگی کرتی ہیں۔ ان کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ پاکستان کسی بھی علاقائی تنازعے کا فریق بننے کے بجائے استحکام کا ذریعہ بنے۔ عسکری اور اسٹریٹجک سطح پر موجود روابط پاکستان کو یہ موقع دیتے ہیں کہ وہ غلط فہمیوں کو بڑھنے سے پہلے کم کرنے میں مدد دے، وہ بھی بغیر کسی تشہیر کے یوں پاکستان اس پورے عمل میں ایک محسن کی حیثیت سے سامنے آ سکتا ہے—ایسا محسن جو نہ کسی پر اپنا مؤقف مسلط کرتا ہے اور نہ کسی کے اندرونی معاملات میں مداخلت کرتا ہے،
فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر اور پاکستان میں ایک با شعور قومی قیادت موجود ہے جو اس حقیقت سے آگاہ ہے کہ اصل کامیابی جنگ جیتنے میں نہیں بلکہ جنگ کو روک لینے کے ہنر میں ہے۔
اللہ تعالیٰ پاکستان کو امن کا ذریعہ بنائے اور امتِ مسلمہ کو اتحاد کی توفیق عطا فرمائے
آمین۔
تحریر صوفی عابد چشتی نظامی نیازی


