اسلام آباد (اردو ٹائمز) امریکی صدر امن کے سفیر, وزیراعظم پاکستان اور فیلڈ مارشل کی صلاحیتوں کے معترف ؟
اسلام آباد (اردو ٹائمز) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ حقیقی معنوں میں امن کے سفیر ہیں جو پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سیّد عاصم منیر کی صلاحیتوں کے بہت زیادہ معترف نظر آتے ہیں
واضح رہے کہ مصر کے شہر شرم الشیخ میں غزہ جنگ بندی معاہدے پر دستخط کی تقریب کے دوران اپنے خطاب میں ا مریکی صدرنے ایک بار پھر وزیراعظم پاکستان شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سیّد عاصم منیر کی تعریف کی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہاکہ میں پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں، اور اپنے پسندیدہ فیلڈ مارشل کو بھی سلام پیش کرتا ہوں، انہیں (فیلڈ مارشل سیّد عاصم منیر کو)میری نیک تمنائیں پہنچا دینا۔صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی بات ختم کرنے کے موقع پر خود وزیراعظم پاکستان کو تقر یر کرنے کی دعوت دی جبکہ اس کے بعد وزیراعظم پاکستان شہباز شریف کی کامیاب تقر یرنےسماں باندھ دیا, یہ ہرگز حیران کُن نہیں کہ گزشتہ جمعے کو نوبیل امن انعام کے اعلان سے قبل قیاس آرائیاں عروج پر تھیں۔ ان قیاس آرائیوں میں سے زیادہ تر کا محور یہ تھا کہ آیا ڈونلڈ ٹرمپ کو یہ انعام دیا جائے گا یا نہیں حالانکہ اس دوران اس بات کو کافی حد تک نظر انداز کر دیا گیا کہ اس انعام کے لیے نامزدگیوں کا عمل جنوری کے مہینے میں ہی ختم ہو جاتا ہے۔لہٰذا امریکی صدر کا یہ دعویٰ کہ انہوں نے 8 جنگیں روکی ہیں، کسی اہمیت کا حامل نہیں تھا۔ ہاں یہ دعوے اگلے سال شاید ان کے کچھ کام آسکیں۔حالیہ دنوں میں نوبیل امن انعام کے لیے ڈونلڈ ٹرمپ کو ایک بار پھر نامزد کیا گیا جوکہ بنیامین نیتن یاہو نے یروشلم کی کنیسٹ میں اپنے خطاب میں کیا جبکہ وزیراعظم شہباز شریف نے بھی شرم الشیخ میں ہونے والی نام نہاد امن کانفرنس کے دوران ٹرمپ کی توثیق کی حالانکہ مصر میں یہ امن کانفرنس ایک بے معنی اجلاس تھا جہاں 20 سے زائد خوشامدی رہنما ایک چھت تلے جمع ہوئے تاکہ وہ بادشاہ کی تعریفوں کے پُل باندھ سکیں۔شہباز شریف نے عقلِ عام اور عالمی رائے عامہ دونوں کو نظر انداز کرتے ہوئے امریکی صدر ٹرمپ کو بتایا کہ ’آپ وہ شخصیت ہیں جس کی اس وقت دنیا کو سب سے زیادہ ضرورت ہے‘۔ امریکی صدر کا جواب بھی اسی طرح مبالغہ آمیز تھا، ’واہ! مجھے یہ توقع نہیں تھی۔ چلیے گھر چلتے ہیں، میرے پاس کہنے کو اب کچھ نہیں یہ واقعی بہت خوبصورت تقریر تھی اور اسے خوبصورتی سے پیش کیا گیا‘
اس سے پہلے ٹرمپ اپنی تقریر میں جنرل عاصم منیر کو ’اپنا پسندیدہ فیلڈ مارشل‘ قرار دے چکے تھے۔ پاکستانی ریاست یقیناً امریکی صدر کی اس ’منظوری‘ پر خوش ہوگی اور شاید امریکی وعدہ خلافیوں کی تاریخ کو بھلا بیٹھی ہے جو 1950ء کی دہائی میں واشنگٹن کو نجات دہندہ سمجھ کر گلے لگانے کے بعد سے بار بار دہرائی گئی ہیں۔غزہ میں روزانہ کی بنیاد پر ہونے والے بڑے پیمانے پر فلسطینیوں کے قتل عام کو کم از کم عارضی طور پر روکنے میں ڈونلڈ ٹرمپ کے کردار کے حوالے سے کی جانے والی تعریفیں، اُن مبہم پہلوؤں پر پردہ ڈال دیتی ہیں جو اُن کے نام نہاد امن منصوبے کا حصہ ہیں۔یہ ایک ایسا منصوبہ ہے جس میں فلسطینی حقِ خودارادیت کے تصور کی کوئی گنجائش نہیں جبکہ ‘ٹرمپ اقتصادی منصوبہ’ اس چھوٹے سے علاقے کے لیے خطرہ ہے جس کا نصف سے زائد حصہ اب بھی اسرائیلی قبضے میں ہے۔ غزہ کے تباہ حال انفرااسٹرکچر کی تعمیرِ نو میں ایک دہائی یا اس سے زائد عرصہ لگ سکتا ہے اور جو لاکھوں جانیں اس دوران ضائع ہو چکی ہیں، ان کا کوئی ازالہ ممکن نہیں ہے۔اس ماہ طے پانے والے جنگ بندی معاہدے کو توسیع دیتے ہوئے، اگر کسی طویل المدتی قیامِ امن کی گنجائش موجود بھی ہے تو یہ وقت ہی بتائے گا کہ آیا کوئی بھی فریق اس امکان کو سنجیدگی سے لیتا ہے یا نہیں۔ ایک ایسا قتل عام جو گریٹر اسرائیل کے قیام کی راہ ہموار کرے، اب بھی صہیونی ایجنڈے کا حصہ ہے۔اور یہ بالکل واضح نہیں کہ امریکی انتظامیہ چاہے ٹرمپ کی ہو یا کسی اور کی، اسرائیلی کارروائیوں کو روکنے کی صلاحیت یا ارادہ رکھتی ہے کیونکہ اس نے خود اس خونریزی کی براہ راست سرپرستی کی ہے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگر حماس جنگ بندی کے معاہدے کی اپنی شرائط پر عمل نہیں کرتی تو وہ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کو غزہ میں دوبارہ فوجی کارروائی کی اجازت دینے پر غور کریں گے۔
ٹرمپ کے اگلے سال نوبیل انعام جیتنے کے امکانات وینزویلا کے خلاف امریکا کی عسکری کارروائیوں سے متاثر ہو سکتے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے رواں سال کی نوبیل انعام یافتہ کا تعلق بھی یہیں سے ہے۔ ماریا کورینا ماچادو نہ صرف ٹرمپ اور نیتن یاہو کی مداح ہیں بلکہ وہ ارجنٹینا کے حاویئر میلی، اٹلی کی جارجیا میلونی اور ہنگری کے وکٹر اوربان جیسے انتہا پسند رہنماؤں کے نظریات سے بھی ہم آہنگ ہیں۔
وہ مارگریٹ تھیچر کو پسند کرتی ہیں جبکہ وہ 2002ء میں جمہوری طور پر منتخب ہونے والے ہوگو چاویز کے خلاف ناکام بغاوت میں بھی شریک رہیں جبکہ وہ سوشلزم کو ’ہمیشہ کے لیے دفن کرنے‘ کا عزم بھی ظاہر کر چکی ہیں۔ نوبیل انعام کمیٹی نے ماریا کی غیر جمہوری سرگرمیوں نظر انداز کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ وہ ایک ’متحد کرنے والی شخصیت‘ ہیں جو ’وینزویلا کے عوام کی آزادی کے لیے برسوں سے سرگرم ہیں‘۔سابق پاکستانی صدارتی امیدوار اصغر علی مبارک نے ایک بار پھر اسلامی جمہوریہ پاکستان کی حکومت سے مطالبہ کیاہے کہ آئندہ سال 2026 نوبل امن انعام کے لیے دوبارہ امریکی صدر کو نامزد کرے، اس میں کوئی شک نہیں کہ صدر ٹرمپ نے عالمی امن کے لیے اہم کردار ادا کیا اور دنیا میں آٹھ جنگیں روکی ہیں الفریڈ نوبیل کی وصیت کے مطابق یہ انعام اُس شخص کو دیا جانا چاہیے جس نے ’گزشتہ سال کے دوران انسانیت کو سب سے زیادہ فائدہ پہنچایا ہو‘۔ انہوں نے یہ نکتہ اس لیے اٹھایا تاکہ وضاحت کی جا سکے کہ رواں سال ٹرمپ کو کیوں کمیٹی نے نظرانداز کیا۔ یہ تو ٹھیک ہے لیکن وہ اس بات کی وضاحت کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہے کہ ماریا کورینا ماچادو نے آخر ’انسانیت کو سب سے زیادہ فائدہ‘ کیسے پہنچایا ہے یہ پہلا موقع نہیں کہ جب ناروے کی نوبیل کمیٹی نے انعام دینے میں سنگین حماقت کا مظاہرہ کیا ہو آخر کو کمیٹی نے ہینری کیسنجر کو بھی نوبیل امن انعام سے نوازا تھا جس پر ہارورڈ کے ریاضی دان اور جز وقتی نغمہ نگار ٹام لیہرر نے 50 سال سے بھی پہلے طنزیہ کہا تھا کہ اب طنز مرچکا ہے۔1973ء میں جب یہ انعام دیا گیا تو ہینری کیسنجر کے ساتھ مشترکہ طور پر یہ انعام جیتنے والے شمالی ویتام کے لی ڈک تھو نے دانشمندی سے یہ اعزاز قبول کرنے سے انکار کر دیا تھا کیونکہ اس وقت ویتنام جنگ ختم نہیں ہوئی تھی۔ غزہ یا وینزویلا کا مستقبل کیا ہوگا، یہ ایک راز ہے۔ نہ تو وینزویلا کی ناکام نکولس مادورو کی حکومت اور نہ ہی حماس کی کارروائیاں اتنی سنگین ہیں جتنا کہ اسرائیلی افواج کے مظالم ہولناک ہیں۔۔ نسل کش کارروائیوں کو ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسی میں کھلی چھوٹ دی گئی۔ خود پذیرائی اور اپنی ٹیم کی غیر حقیقی تعریفوں سے ہٹ کر، امریکی صدر کی کنسیٹ میں تقریر کا اصل مقصد اسرائیل اور اس کے موجودہ وزیر اعظم کے لیے اپنی عقیدت کا اظہار کرنا تھا۔ ان کے لیے اراکین نے کھڑے ہو کر خوب تالیاں بجائی گئیں۔ اگرچہ ایک مختصر خلل بھی آیا لیکن اگر وہ فلسطینیوں کے ایک گروپ سے بات کرتے تو شاید ایسا نہ ہوتا۔ وہ تعریفیں جن پر وہ فخر سے جھومتے ہیں، شرم الشیخ کے اجتماع میں بھی کسی طور ان میں کمی نہیں آئی۔ اس کانفرنس میں آخری لمحے پر ٹرمپ کو نیتن یاہو کو اپنے ساتھ لانے سے روکا گیا تھا۔ ٹرمپ اپنے اُس امن بورڈ کے لیے پُرجوش ہیں جس کی سربراہی وہ کرنے والے ہیں لیکن یہ ابھی معلوم ہونا باقی ہے کہ جب وہ قیام امن سے بیزار ہوجائیں گے تو اس کے بعد کیا ہوگا۔ یہ بات فلسطین کے لیے تو اہم ہے ہی بلکہ وینزویلا کے لیے بھی تشویش کا باعث ہے۔ امن کا نوبیل انعام ناروے جب کہ باقی تمام انعامات سوئیڈن کی حکومت دیتی ہے لیکن ناروے کی حکومت کا دعویٰ ہے کہ نوبیل انعام کمیٹی پر حکومت کا کوئی اختیار نہیں، کمیٹی آزادانہ فیصلے کرتی ہے۔ وینزویلا کی حکومت نے اپوزیشن لیڈر ماریا کورینا مچادو کو 2025 کا نوبیل امن انعام ملنے کے چند دن بعد ناروے میں اپنا سفارت خانہ بند کردیا۔اس میں کوئی شک نہیں کہ ماریا ماچادو اُس ہر فیصلے کی منظوری دیں گی جو وہ وینزویلا کے لیے کریں گے۔ ممکن ہے کہ مشرق وسطیٰ میں اُن کی ہم عصر شخصیت نیتن یاہو کے بجائے محمود عباس ہوں ٹرمپ اگلے سال کے نوبیل انعام کے لیے ممکنہ امیدوار ہیں حالانکہ فرانچیسکا البانیز، گریٹا تھیونبرگ بھی ہیں۔جنوبی امریکی ملک وینزویلا نے مبینہ طور پر اپنے ملک کی اپوزیشن لیڈر ماریا کورینا مچادو کو نوبیل انعام دیے جانے پر یورپی ملک ناروے میں اپنا سفارت خانہ بند کردیا۔مذکورہ قدم ان کی خارجہ پالیسی کی ’دوبارہ تشکیل‘ کا حصہ ہے لیکن یہ اقدام مبینہ طور پر نوبیل انعام کی وجہ سے پیدا ہونے والے تناؤ سے جڑا ہوا لگتا ہے۔ اوسلو میں وینزویلا کے سفارت خانہ بند کیے جانے کو ناروے کی وزارت خارجہ نے ’افسوسناک‘ قرار دیا ہے۔ نوبیل انعام کا اعلان 10 اکتوبر 2025 کو ناروے کی نوبیل کمیٹی نے کیا تھا، کمیٹی نے وینزویلا کی اپوزیشن لیڈر خاتون ماریا کورینا مچادو کو امن انعام دیا تھا۔ کمیٹی نے ان کی تعریف کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ وینزویلا میں جمہوری حقوق کی لگن اور آمریت سے جمہوریت کی طرف پرامن منتقلی کی جدوجہد پر یہ انعام حاصل کر رہی ہیں۔ اپوزیشن لیڈر کو نوبیل انعام دیے جانے پر وینزویلا کے صدر نکولس مدورو نے مچادو کو ’شیطانی جادوگرنی‘ قرار دیا لیکن انعام کا براہ راست ذکر نہیں کیا۔ ماریا کورینا مچادو کو نوبیل انعام دینے کے اعلان کے تین دن بعد 13 اکتوبر کو وینزویلا کی حکومت نے ناروے میں اپنا سفارت خانہ بند کرنے کا اعلان کیا۔ ماریا کورینا مچادو وینزویلا کی اہم اپوزیشن لیڈر ہیں جو صدر نکولس مدورو کی 12 سالہ حکومت کے خلاف کئی سال سے جدوجہد کر رہی ہیں۔ نوبیل انعام کی وجہ سے ناروے میں دوسرے ممالک کی جانب سے سفارت خانہ بند کرنے کا واقعہ پہلے بھی ہوچکا ہے، 2010 میں چین مخالف رہنما لیو شیاؤ بو کو انعام دیے جانے پر چین نے ناروے میں سفارت خانہ بند کرکے اس کے ساتھ تجارت اور تعلقات معطل کر دیے تھے جو چھ سال بعد بحال ہوئے تھے۔امن نوبیل انعام کے اعلان کی تقریب ناروے کے دارالحکومت اوسلو میں ہوئی، جس میں کمیٹی نے ماریہ کورینا مچادو کو وینزویلا میں جمہوریت کے فروغ اور آزادانہ انتخابات کے لیے ان کی کوششوں کے اعتراف میں یہ اعزاز دیا، تاہم ایوارڈ رسمی طور پر 10 دسمبر کو پیش کیا جائے گا نوبیل امن کمیٹی کی جانب سے اس سال 338 نامزدگیوں پر غور کیا گیا، جن میں صدر ٹرمپ بھی شامل تھے، لیکن وہ اس بار بھی انعام حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوئے۔ کمیٹی نے کہا کہ ماریا کورینا نے وینزویلا میں جمہوریت کے لیے بھرپور کردار ادا کیا اور کئی مشکلات برداشت کیں۔ہ عالمی اعزاز امن، انسانی حقوق اور ہم آہنگی کے فروغ کے لیے دیا جاتا ہے اور اپنی 124 سالہ تاریخ کے ساتھ آج بھی امید کی علامت سمجھا جاتا ہے۔
سابق پاکستانی صدارتی امیدوارنے بتایا کہ اس سے قبل ان کی درخواست پر حکومت پاکستان نے امریکی صدر کا نام نامزد کیا تھا لیکن 20 فروری 2025 سے پہلے نامزدگی کی تاریخ بندہونے پر صدر ٹرمپ اس پوزیشن میں نہیں تھے اسی لیے تکنیکی طور پر ان کا نام نوبل امن انعام کمیٹی کی جانب سے سال2025کے لیے منظور نہیں کیا گیا۔ لیکن اگلے سال کے لیے وہ نوبل ایوارڈ کے لیے سب سے زیادہ پسندیدہ امیدوار ہیں۔غور طلب ہے کہ گوگل پر میری (اصغر علی مبارک) کی تجویز ہر کوئی دیکھ سکتا ہے پوری دنیا میں پہلے شخص کے طور پر اسلامی جمہوریہ پاکستان کے سابق صدارتی امیدوار کی حیثیت سے میں نے حکومت پاکستان سے درخواست کی اور نوبل امن انعام کے لیے امریکی صدر ٹرمپ کا نام تجویز کیاتھا، جس کے بعد حکومت پاکستان نے نوبل انعام کے لیے صدر ٹرمپ کا نام تجویز کیاتھا۔ یہاں میں ایک بار پھر حکومت پاکستان سے مطالبہ کرتا ہوں کہ وہ پاکستانی عوام کی طرف سے امریکی صدر ٹرمپ کو ان کی امن کوششوں پرآئندہ سال 2026 نوبل امن انعام کے لیے دوبارہ نامزد کرے،حالیہ دنوں میں نوبیل امن انعام کے لیے ڈونلڈ ٹرمپ کو ایک بار پھر نامزد کیا گیا جوکہ بنیامین نیتن یاہو نے یروشلم کی کنیسٹ میں اپنے خطاب میں کیا جبکہ وزیراعظم شہباز شریف نے بھی شرم الشیخ میں ہونے والی نام نہاد امن کانفرنس کے دوران ٹرمپ کی توثیق کی حالانکہ مصر میں یہ امن کانفرنس ایک بے معنی اجلاس تھا جہاں 20 سے زائد خوشامدی رہنما ایک چھت تلے جمع ہوئے تاکہ وہ بادشاہ کی تعریفوں کے پُل باندھ سکیں۔ شہباز شریف نے امریکی صدر ٹرمپ کو بتایا کہ ’آپ وہ شخصیت ہیں جس کی اس وقت دنیا کو سب سے زیادہ ضرورت ہے‘۔ امریکی صدر کا جواب بھی اسی طرح مبالغہ آمیز تھا، ’واہ! مجھے یہ توقع نہیں تھی۔ چلیے گھر چلتے ہیں، میرے پاس کہنے کو اب کچھ نہیں یہ واقعی بہت خوبصورت تقریر تھی اور اسے خوبصورتی سے پیش کیا گیا‘ یہ واقعی بہت خوبصورت تقریر تھی اور اسے خوبصورتی سے پیش کیا گیا‘۔اس سے پہلے ٹرمپ اپنی تقریر میں جنرل عاصم منیر کو ’اپنا پسندیدہ فیلڈ مارشل‘ قرار دے چکے تھے۔ پاکستانی ریاست یقیناً امریکی صدر کی اس ’منظوری‘ پر خوش ہوگی اور شاید امریکی وعدہ خلافیوں کی تاریخ کو بھلا بیٹھی ہے جو 1950ء کی دہائی میں واشنگٹن کو نجات دہندہ سمجھ کر گلے لگانے کے بعد سے بار بار دہرائی گئی ہیں۔وزیرِاعظم شہباز شریف کی تقریر نے شاید پالیسی ساز حلقوں کو قائل نہ کیا ہو لیکن اُن کے الفاظ خبروں کی شہ سرخیاں بن گئے اور ایک مصروف سربراہی اجلاس میں پاکستان خود کو نمایاں بنا گیا۔جنگ بندی، تعمیر نو و بحالی کے منصوبے اور جنگ کے بعد کی سفارت کاری جس میں تھکاوٹ عیاں تھی، یہی وہ موضوعات تھے جن کے لیے مصر کے شہر شرم الشیخ میں سربراہی کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔ لیکن جب وزیرِاعظم شہباز شریف نے مائیک سنبھالا تو ماحول یکدم بدل گیا۔ جو پہلے سنجیدہ تھا، ڈرامائی بن گیا۔ عالمی رہنماؤں کے سامنے پاکستانی وزیرِاعظم نے کوئی سفارتی یا ریاستی پالیسی بیان نہیں دیا بلکہ انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی بھرپور تعریف کی ۔ انہوں نے ڈونلڈ ٹرمپ کو ’امن کا علم بردار‘ قرار دیا، انہیں نوبیل انعام کے لیے نامزد کرنے کی بات کی اور بھارت اور پاکستان کے درمیان ممکنہ ایٹمی جنگ کو روکنے کا سہرا بھی انہیں کو دیا۔ جہاں ٹرمپ خود پرست مسکراہٹ کے ساتھ یہ سب سنتے رہے وہیں کانفرنس ہال میں باقی سب لوگ ششدر اور الجھن میں مبتلا ساکت نظر آئے۔ تالیاں بھی بجائی گئیں لیکن یہ واقعہ خبروں میں فوراً چھا گیا۔ ایسا فورم جو با وقار عالمی مکالمے کے لیے تھا، وہاں وزیرِاعظم کی تقریر، ڈرامائی لگ رہی تھی لیکن حیرت انگیز طور پر، یہ حکمتِ کارگر ثابت ہوئی۔ کم از کم اس ایک شخص کے لیے یہ کام کرگئی جس کی خوشنودی سب سے اہم تھی یعنی ڈونلڈ ٹرمپ!ٹرمپ جن کی سیاست تعریف اور توجہ سے چلتی ہے، ان کے لیے شہباز شریف کے الفاظ باعثِ شرمندگی نہیں تھے بلکہ یہ انہیں توانائی بخشنے کا ذریعہ بنے۔ ٹرمپ کی لین دین پر مبنی طرزِ سفارت کاری میں خوشامد کو دھوکا دینا نہیں سمجھا جاتا بلکہ ان کے لیے تو یہ ایک کرنسی ہے۔ ان کے لیے زیادہ مبالغہ آمیز تعریف کا ایک جملہ، پالیسی کے ایک مکمل پیراگراف سے زیادہ مؤثر ہے۔ اور ایک خود پسند شخص کو تعریف ہی حقیقی سفارت کاری کی طرح محسوس ہوتی ہےسیاسی ماہرینِ نفسیات اس رویے کو ’خود پسند انعامی دائرہ کہتے ہیں جوکہ ایک ایسا ذہنی عمل ہے جس میں تعریف تعاون کو مضبوط بناتی ہے، چاہے اس کا کوئی حقیقی مطلب ہو یا نہ ہو۔ اس لمحے میں ہو سکتا ہے کہ وزیرِاعظم نے پاکستان کے اسٹریٹجک مفادات کو آگے نہ بڑھایا ہو لیکن انہوں نے ایک اور مؤثر کام ضرور کیا جو یہ تھا کہ انہوں نے خود کو اور بالواسطہ طور پر پاکستان کو، ٹرمپ کی امن کی کہانی کا حصہ بنایا۔ یوں تقریر کا غیرمعقول ہونا ہی اُس کی کامیابی کا ذریعہ بنا۔ اسے اسپیچ تھیوری میں جب کوئی شخص جو کہتا ہے اس کا نتیجہ اس کی منصوبہ بندی سے مختلف ہوتا ہے لیکن پھر بھی یہ مثبت اثرات مرتب کرتا ہو۔ شہباز شریف شاید اپنے میزبان کی تعریف کرنا چاہتے تھے اور مصروف اجلاس میں تھوڑی توجہ حاصل کرنا چاہتے تھے۔ لیکن اس کے بجائے، وہ اس جغرافیائی سیاسی تقریب میں سب سے زیادہ چرچا کیے جانے والے رہنما بن گئے۔ جہاں وہ ٹرمپ کی نظروں میں آگئے۔ ٹرمپ کے نزدیک ان کے الفاظ میں ان کے لیے حمایت نظر آئی۔ اور ایک ایسی دنیا جہاں سفارت کاری خود پسندی پر مبنی ہے، یہی فرق سب سے زیادہ اہم ہے۔ایسا رویہ کہ جس میں بات کا مطلب غلط سمجھا جائے لیکن نتیجہ پھر بھی مثبت نکل آئے، تعلقات عامہ کی دنیا میں ’فائدہ مند غلط فہمی‘ کہلاتا ہے۔ اس میں مقرر کا ارادہ اور سامعین کا تاثر مختلف ہوتا ہے لیکن یہ غلط فہمی اصل میں تقریر کرنے والے کو زیادہ توجہ یا حمایت حاصل کرنے میں مدد کرتی ہے۔ یہ میڈیا کے دور میں غلط پیغام رسانی کی ایک کامیاب شکل ہے۔وزیرِاعظم شہباز شریف کی تقریر نے شاید پالیسی ساز حلقوں کو قائل نہ کیا ہو لیکن یہ ضرور ہوا کہ اُن کے الفاظ خبروں کی شہ سرخیاں بن گئے خاص طور پر پڑوسی ملک بھارت میں۔۔۔ یہ ایک ایسا منفرد لمحہ تھا کہ جب ایک ایسی سربراہی اجلاس جس میں امریکا اور مصر کی سیاسی حکمتِ عملیوں کا غلبہ تھا، پاکستان خود کو نمایاں بنا گیا۔ 21ویں صدی کے میڈیا کے دور میں، اب پرانی شائستگی اور روایتی اصولوں کی پابند نہیں رہی۔ اب نیت سے زیادہ تاثر اہم ہوتا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ ایک ایسے شخص ہیں جن کی خود پسندی ان کی نظریات سے بھی بڑی ہے، انہوں نے ایک ریاست کے سربراہ کے طور پر نہیں بلکہ ایک مشہور شخصیت کے طور پر ردِعمل دیا جو تعریفوں سے لطف اندوز ہوتا ہے۔ وہ مسکراتے رہے، مذاق کرتے رہے اور اشارے سے گویا کہہ دیا کہ اب کچھ کہنے کی ضرورت نہیں۔ ٹرمپ نے اسے غور سے سنا۔جدید دور کی بین الاقوامی کانفرنسسز نتائج سے زیادہ دکھاوے پر مرکوز نظر آتی ہیں۔ رہنما ایک دوسرے سے کم اور عوام سے زیادہ مخاطب ہوتے ہیں جبکہ بعض اوقات وہ صرف ایک شخص کی انا کو خوش کرنے کے لیے بولتے ہیں۔شرم الشیخ میں وزیرِاعظم کے الفاظ، غزہ کی تعمیر نو کے عمل کو بدل نہیں سکتے اور نہ ہی وہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کو ازسرِ نو تحریر کریں گے۔ لیکن یہ الفاظ بین الاقوامی سیاست کی بدلتی ہوئی روش کے عکاس ہیں جہاں غلط اقدام بھی میڈیا کی حکمت عملی بن جاتے ہیں۔ روایتی معنوں میں، شہباز شریف کی تقریر سفارت کاری نہیں تھی بلکہ یہ ایک مثال تھی ہال میں حیرت نمایاں تھی۔ سفارت کار آپس میں سرگوشی کررہے تھے،اس کے باوجود اس ہال میں سب سے اہمیت کا حامل شخص مسکرا رہا تھا۔ اور جغرافیائی سیاست میں کبھی کبھی ایک شخص کی تالیاں، پوری دنیا سے زیادہ بھاری ہوتی ہیں


