LOADING

Type to search

قومی قومی خبریں

خانیوال (اردو ٹائمز) امید کی کرن سلمیٰ سلیمان

خانیوال (اردو ٹائمز) خانیوال کی زمین، جو کبھی ہریالی اور خوشحالی کی علامت ہوا کرتی تھی، پچھلے برسوں کے سیلابی ریلاؤں اور بارشوں کی شدت نے اُسے زخموں سے بھر دیا۔ کھیت کھلیان جن میں کبھی سنہری گندم لہلہاتی تھی، آج وہاں پانی کے تالاب ہیں۔ کسان جن کے خواب کھڑی فصلوں کے ساتھ جُڑے تھے، اپنی آنکھوں کے سامنے سب کچھ برباد ہوتا دیکھتے رہے۔ یہ صرف زمین کی تباہی نہیں تھی بلکہ انسانی زندگیاں اجڑ گئیں، خواب بکھر گئے اور امید کے چراغ مدھم پڑ گئے۔

وہ بچے جو اسکول جانے کے خواب دیکھتے تھے، اُن کے بستے پانی کی نذر ہوگئے۔ وہ عورتیں جو اپنے گھروں کی زینت سمجھی جاتی تھیں، کھلے آسمان تلے بیٹھی فریاد کناں رہیں۔ بزرگ جو اپنی آنے والی نسلوں کو سہولتیں دینے کی آرزو رکھتے تھے، آج دو وقت کی روٹی کے لیے ہاتھ پھیلانے پر مجبور ہیں۔ بھوک، غربت اور افلاس نے ہر دروازے پر دستک دی ہے۔ خانیوال کے باسیوں کی آنکھوں میں جو آنسو تھے، وہ صرف کھوئے ہوئے مال و اسباب کے نہیں تھے، بلکہ وہ اپنے کل کے اجڑنے پر رو رہے تھے۔

ایسے میں اگر کوئی مسیحا بن کر ان لوگوں کے درمیان اُترے، تو یقیناً یہ معجزے سے کم نہیں۔ خانیوال نے ایک ایسی ہی ہستی کو اپنی آنکھوں سے دیکھا — ڈپٹی کمشنر سلمیٰ سلیمان۔ وہ صرف ایک سرکاری افسر نہیں ہیں، بلکہ اُنہوں نے اپنے عمل اور کردار سے یہ ثابت کیا ہے کہ ریاستی منصب صرف اختیارات کا نام نہیں، بلکہ یہ عوام کی خدمت کی امانت ہے۔

سلمیٰ سلیمان جب متاثرہ بستیوں میں پہنچیں تو لوگوں نے صرف ایک افسر نہیں بلکہ اپنی بیٹی، اپنی بہن اور اپنی مسیحا کو دیکھا۔ اُن کے وجود میں ایک ہمدرد ماں کی جھلک تھی جو بچوں کے سروں پر دست شفقت رکھتی ہے۔ اُن کے لہجے میں ایک بہن کی مٹھاس تھی جو غمزدہ گھروں کو ڈھارس دیتی ہے۔ اور اُن کے عمل میں ایک رہنما کی بصیرت تھی جو لوگوں کو امید دلاتی ہے کہ اجڑنے کے باوجود زندگی رکتی نہیں، آگے بڑھتی ہے۔

کبھی وہ ایک اجڑی ہوئی جھونپڑی میں داخل ہوتیں جہاں پانی کے بعد بس مٹی اور ٹوٹے برتن بچے تھے، اور وہاں بیٹھ کر بزرگوں کو حوصلہ دیتیں۔ کبھی وہ چھوٹے بچوں کو اپنے ہاتھ سے کھانا دیتیں اور اُن کی مسکراہٹ واپس لانے کی کوشش کرتیں۔ یہ سب مناظر اُن متاثرین کے دلوں پر ایسا نقش چھوڑ گئے جو برسوں بعد بھی محو نہ ہوں گے۔

خانیوال کے کسان آج بھی کہتے ہیں کہ اگر ڈپٹی کمشنر سلمیٰ سلیمان نہ ہوتیں تو شاید ہم دوبارہ ہمت نہ کر پاتے۔ اُنہوں نے نہ صرف متاثرین کی فوری بحالی کے لیے ریسکیو اور امدادی سرگرمیوں کو تیز کیا بلکہ طویل المدتی منصوبہ بندی بھی کی تاکہ دوبارہ ایسا دکھ نہ سہنا پڑے۔ اُنہوں نے سرکاری مشینری کو ایک نئی روح دی اور ثابت کیا کہ جب ایک اہل، ایماندار اور درد شناس افسر قیادت کرے تو مشکلات کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے۔

یہ بات اپنی جگہ حقیقت ہے کہ غربت اور افلاس کا مقابلہ کسی ایک دن میں ممکن نہیں۔ یہ ایک مسلسل جدوجہد ہے، مگر اس جدوجہد میں کسی مسیحا کا کردار چراغِ راہ کی مانند ہوتا ہے۔ سلمیٰ سلیمان نے ثابت کیا کہ قیادت محض کرسی پر بیٹھنے کا نام نہیں، بلکہ عوام کے ساتھ کھڑے ہونے کا نام ہے۔ اُنہوں نے دکھایا کہ ایک ڈپٹی کمشنر بھی ماں کے آنسو پونچھ سکتی ہے، ایک بچے کے زخموں پر مرہم رکھ سکتی ہے اور اجڑے ہوئے خاندان کو امید کی ڈور تھما سکتی ہے۔

آج خانیوال کے کھیت دوبارہ سنبھلنے لگے ہیں۔ کسان ایک بار پھر بیج بوتے ہیں۔ عورتیں اپنے گھروں کی تعمیر کی طرف بڑھ رہی ہیں۔ بچے اسکول کے دروازے پر کھڑے اپنی نئی زندگی کا خواب دیکھ رہے ہیں۔ اور یہ سب کچھ اُس وقت ممکن ہوا جب کسی نے اُنہیں یاد دلایا کہ “اجڑنے کے بعد بھی زندگی باقی ہے، خواب دوبارہ سج سکتے ہیں۔”

یہ کالم محض ایک افسر کی تعریف نہیں، بلکہ ایک عہد کی علامت ہے۔ سلمیٰ سلیمان کا کردار یہ یاد دلاتا ہے کہ اگر ہم سب اپنی اپنی ذمہ داری کو دیانت اور ہمدردی کے ساتھ ادا کریں تو کوئی دکھ، کوئی غربت اور کوئی افلاس ہمارے لوگوں کو جھکا نہیں سکتا۔ خانیوال کے لوگ آج بھی اُن کے ذکر پر آنکھوں میں آنسو اور دل میں دعا رکھتے ہیں۔ اُن کے لیے یہ حقیقت ہے کہ ایک سرکاری افسر بھی مسیحا بن سکتا ہے — اور اُس مسیحا کا نام ہے: سلمیٰ سلیمان

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
X